صحرا پہ برا وقت مرے یار پڑا ہے
Munawwar Ranaصحرا پہ برا وقت مرے یار پڑا ہے
سب رونق صحرا تھی اسی پگلے کے دم سے
اجڑا ہوا دیوانے کا دربار پڑا ہے
آنکھوں سے ٹپکتی ہے وہی وحشت صحرا
کاندھے بھی بتاتے ہیں بڑا بار پڑا ہے
دل میں جو لہو جھیل تھی وہ سوکھ چکی ہے
آنکھوں کا دو آبا ہے سو بے کار پڑا ہے
تم کہتے تھے دن ہو گئے دیکھا نہیں اس کو
لو دیکھ لو یہ آج کا اخبار پڑا ہے
اوڑھے ہوئے امید کی اک میلی سی چادر
دروازۂ بخشش پہ گنہ گار پڑا ہے
اے خاک وطن تجھ سے میں شرمندہ بہت ہوں
مہنگائی کے موسم میں یہ تیوہار پڑا ہے