خون رلوائے گی یہ جنگل پرستی ایک دن

Munawwar Rana

خون رلوائے گی یہ جنگل پرستی ایک دن

سب چلے جائیں گے خالی کر کے بستی ایک دن

چوستا رہتا ہے رس بھونرا ابھی تک دیکھ لو

پھول نے بھولے سے کی تھی سر پرستی ایک دن

دینے والے نے طبیعت کیا عجب دی ہے اسے

ایک دن خانہ بدوشی گھر گرہستی ایک دن

کیسے کیسے لوگ دستاروں کے مالک ہو گئے

بک رہی تھی شہر میں تھوڑی سی سستی ایک دن

تم کو اے ویرانیوں شاید نہیں معلوم ہے

ہم بنائیں گے اسی صحرا کو بستی ایک دن

روز و شب ہم کو بھی سمجھاتی ہے مٹی قبر کی

خاک میں مل جائے گی تیری بھی ہستی ایک دن