ساری دولت ترے قدموں میں پڑی لگتی ہے

Munawwar Rana

ساری دولت ترے قدموں میں پڑی لگتی ہے

تو جہاں ہوتا ہے قسمت بھی گڑی لگتی ہے

ایسے رویا تھا بچھڑتے ہوئے وہ شخص کبھی

جیسے ساون کے مہینے میں جھڑی لگتی ہے

ہم بھی اپنے کو بدل ڈالیں گے رفتہ رفتہ

ابھی دنیا ہمیں جنت سے بڑی لگتی ہے

خوش نما لگتے ہیں دل پر ترے زخموں کے نشاں

بیچ دیوار میں جس طرح گھڑی لگتی ہے

تو مرے ساتھ اگر ہے تو اندھیرا کیسا

رات خود چاند ستاروں سے جڑی لگتی ہے

میں رہوں یا نہ رہوں نام رہے گا میرا

زندگی عمر میں کچھ مجھ سے بڑی لگتی ہے