پھر سے بدل کے مٹی کی صورت کرو مجھے

Munawwar Rana

پھر سے بدل کے مٹی کی صورت کرو مجھے

عزت کے ساتھ دنیا سے رخصت کرو مجھے

میں نے تو تم سے کی ہی نہیں کوئی آرزو

پانی نے کب کہا تھا کہ شربت کرو مجھے

کچھ بھی ہو مجھ کو ایک نئی شکل چاہئے

دیوار پر بچھاؤ مجھے چھت کرو مجھے

جنت پکارتی ہے کہ میں ہوں ترے لئے

دنیا بضد ہے مجھ سے کہ جنت کرو مجھے