بادشاہوں کو سکھایا ہے قلندر ہونا
Munawwar Ranaبادشاہوں کو سکھایا ہے قلندر ہونا
آپ آسان سمجھتے ہیں منور ہونا
ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے
تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا
صرف بچوں کی محبت نے قدم روک لیے
ورنہ آسان تھا میرے لیے بے گھر ہونا
ہم کو معلوم ہے شہرت کی بلندی ہم نے
قبر کی مٹی کا دیکھا ہے برابر ہونا
اس کو قسمت کی خرابی ہی کہا جائے گا
آپ کا شہر میں آنا مرا باہر ہونا
سوچتا ہوں تو کہانی کی طرح لگتا ہے
راستے سے مرا تکنا ترا چھت پر ہونا
مجھ کو قسمت ہی پہنچنے نہیں دیتی ورنہ
ایک اعزاز ہے اس در کا گداگر ہونا
صرف تاریخ بتانے کے لیے زندہ ہوں
اب مرا گھر میں بھی ہونا ہے کلنڈر ہونا