جیسے ہی اس نے پوچھا کہ رشتہ قبول ہے

Lankesh Gautam (b. 2003)

جیسے ہی اس نے پوچھا کہ رشتہ قبول ہے

یک دم مری زبان سے نکلا قبول ہے

اب بات سے پلٹنے نہیں دوں گا میں تمہیں

سپنے میں تم نے مجھ سے کہا تھا قبول ہے

میں نے یہ راستہ کبھی دیکھا نہیں مگر

تم ساتھ ہو تو مجھ کو بھٹکنا قبول ہے

تو بھی کوئی پرائی انگوٹھی پہن چکا

میں بھی کسی سے کہہ چکا رشتہ قبول ہے

مجھ کو مرے مزاج کا ملتا نہیں کوئی

سو جیسا آپ ڈھونڈھ دیں ویسا قبول ہے