الماری سے خط اس کے پرانے نکل آئے

Munawwar Rana

الماری سے خط اس کے پرانے نکل آئے

پھر سے مرے چہرے پہ یہ دانے نکل آئے

ماں بیٹھ کے تکتی تھی جہاں سے مرا رستہ

مٹی کے ہٹاتے ہی خزانے نکل آئے

ممکن ہے ہمیں گاؤں بھی پہچان نہ پائے

بچپن میں ہی ہم گھر سے کمانے نکل آئے

اے ریت کے ذرے ترا احسان بہت ہے

آنکھوں کو بھگونے کے بہانے نکل آئے

اب تیرے بلانے سے بھی ہم آ نہیں سکتے

ہم تجھ سے بہت آگے زمانے نکل آئے

ایک خوف سا رہتا ہے مرے دل میں ہمیشہ

کس گھر سے تری یاد نہ جانے نکل آئے