اچھا ہوا کہ میرا نشہ بھی اتر گیا
Munawwar Ranaاچھا ہوا کہ میرا نشہ بھی اتر گیا
تیری کلائی سے یہ کڑا بھی اتر گیا
وہ مطمئن بہت ہے مرا ساتھ چھوڑ کر
میں بھی ہوں خوش کہ قرض مرا بھی اتر گیا
رخصت کا وقت ہے یوں ہی چہرہ کھلا رہے
میں ٹوٹ جاؤں گا جو ذرا بھی اتر گیا
بیکس کی آرزو میں پریشاں ہے زندگی
اب تو فصیل جاں سے دیا بھی اتر گیا
رو دھو کے وہ بھی ہو گیا خاموش ایک روز
دو چار دن میں رنگ حنا بھی اتر گیا
پانی میں وہ کشش ہے کہ اللہ کی پناہ
رسی کا ہاتھ تھامے گھڑا بھی اتر گیا
وہ مفلسی کے دن بھی گزارے ہیں میں نے جب
چولھے سے خالی ہاتھ توا بھی اتر گیا
سچ بولنے میں نشہ کئی بوتلوں کا تھا
بس یہ ہوا کہ میرا گلا بھی اتر گیا
پہلے بھی بے لباس تھے اتنے مگر نہ تھے
اب جسم سے لباس حیا بھی اتر گیا