تھکن کو اوڑھ کے بستر میں جا کے لیٹ گئے
Munawwar Ranaتھکن کو اوڑھ کے بستر میں جا کے لیٹ گئے
ہم اپنی قبر مقرر میں جا کے لیٹ گئے
تمام عمر ہم اک دوسرے سے لڑتے رہے
مگر مرے تو برابر میں جا کے لیٹ گئے
ہماری تشنہ نصیبی کا حال مت پوچھو
وہ پیاس تھی کہ سمندر میں جا کے لیٹ گئے
نہ جانے کیسی تھکن تھی کبھی نہیں اتری
چلے جو گھر سے تو دفتر میں جا کے لیٹ گئے
یہ بے وقوف انہیں موت سے ڈراتے ہیں
جو خود ہی سایۂ خنجر میں جا کے لیٹ گئے
تمام عمر جو نکلے نہ تھے حویلی سے
وہ ایک گنبد بے در میں جا کے لیٹ گئے
سجائے پھرتے تھے جھوٹی انا جو چہروں پر
وہ لوگ قصر سکندر میں جا کے لیٹ گئے
سزا ہماری بھی کاٹی ہے بال بچوں نے
کہ ہم اداس ہوئے گھر میں جا کے لیٹ گئے