بغیر زیوروں کے بھی حسین ہے یقین ہے
Lankesh Gautam (b. 2003)بغیر زیوروں کے بھی حسین ہے یقین ہے
وفا جو اوڑھ لے وہ نازنین ہے یقین ہے
پرندگی میں اس طرح سے چھو رہا ہوں آسماں
کہ آسماں بھی اب مری زمین ہے یقین ہے
اسی لئے وہ پوچھتی ہے پیار پر یقیں ہے کیا
میں نامراد بول دوں یقین ہے یقین ہے
اگر تمہارے نقش پا ملیں وفا کی راہ پر
طویل راستہ بھی خوش ترین ہے یقین ہے
اسے یہ لگ رہا ہے پھر شراب پی گئی مجھے
وہ دو دکھا کے پوچھتا ہے تین ہے یقین ہے
تری صدا کی دھن پہ جھومتا رہوں گا عمر بھر
میں ناگ ہوں ترا کلام بین ہے یقین ہے
گو مجھ کو مولوی بتا رہا تھا یہ حرام ہے
مگر تو کہہ رہا ہے اس میں دین ہے یقین ہے