انا ہوس کی دکانوں میں آ کے بیٹھ گئی

Munawwar Rana

انا ہوس کی دکانوں میں آ کے بیٹھ گئی

عجیب مینا ہے شکروں میں آ کے بیٹھ گئی

جگا رہا ہے زمانہ مگر نہیں کھلتیں

کہاں کی نیند ان آنکھوں میں آ کے بیٹھ گئی

وہ فاختہ جو مجھے دیکھتے ہی اڑتی تھی

بڑے سلیقے سے بچوں میں آ کے بیٹھ گئی

تمام تلخیاں ساغر میں رقص کرنے لگیں

تمام گرد کتابوں میں آ کے بیٹھ گئی

تمام شہر میں موضوع گفتگو ہے یہی

کہ شاہزادی غلاموں میں آ کے بیٹھ گئی

نہیں تھی دوسری کوئی جگہ بھی چھپنے کی

ہماری عمر کھلونوں میں آ کے بیٹھ گئی

اٹھو کہ اوس کی بوندیں جگا رہی ہیں تمہیں

چلو کہ دھوپ دریچوں میں آ کے بیٹھ گئی

چلی تھی دیکھنے سورج کی بد مزاجی کو

مگر یہ اوس بھی پھولوں میں آ کے بیٹھ گئی

تجھے میں کیسے بتاؤں کہ شام ہوتے ہی

اداسی کمرے کے طاقوں میں آ کے بیٹھ گئی