پہلے تو اپنے حسن سے گھایل کیا مجھے

Lankesh Gautam (b. 2003)

پہلے تو اپنے حسن سے گھایل کیا مجھے

مرہم لگا کے بعد میں پاگل کیا مجھے

چادر تھا میں گھسی ہوئی مجھ میں تپش نہ تھی

کل رات اس نے اوڑھ کے کمبل کیا مجھے

کہہ بھی رہا تھا خاک ہوں مجھ کو نمی نہ دے

کوزہ گری کی آڑ میں دلدل کیا مجھے

پہلے تو میری روح کو دل میں چھپا لیا

پھر خود کواڑ بن گئی سانکل کیا مجھے

ہو کر بھی ہر جگہ کہیں دکھتا نہیں ہوں میں

تنہائیوں کی گرد نے اوجھل کیا مجھے

مجھ کو کسی کی یاد نے سرسبز کر دیا

اس کے طویل ہجر نے جنگل کیا مجھے

ایسا سوال تھا میں کہ جس کا نہ تھا جواب

مشکل بہت تھا اس نے مگر حل کیا مجھے