گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں
Munawwar Ranaگھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں
لڑکیاں دھان کے پودوں کی طرح ہوتی ہیں
اڑ کے اک روز بہت دور چلی جاتی ہیں
گھر کی شاخوں پہ یہ چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں
سہمی سہمی ہوئی رہتی ہیں مکان دل میں
آرزوئیں بھی غریبوں کی طرح ہوتی ہیں
ٹوٹ کر یہ بھی بکھر جاتی ہیں اک لمحے میں
کچھ امیدیں بھی گھروندوں کی طرح ہوتی ہیں
آپ کو دیکھ کے جس وقت پلٹتی ہے نظر
میری آنکھیں مری آنکھوں کی طرح ہوتی ہیں