ایسا لگتا ہے کہ کر دے گا اب آزاد مجھے

Munawwar Rana

ایسا لگتا ہے کہ کر دے گا اب آزاد مجھے

میری مرضی سے اڑانے لگا صیاد مجھے

میں ہوں سرحد پہ بنے ایک مکاں کی صورت

کب تلک دیکھیے رکھتا ہے وہ آباد مجھے

ایک قصے کی طرح وہ تو مجھے بھول گیا

اک کہانی کی طرح وہ ہے مگر یاد مجھے

کم سے کم یہ تو بتا دے کہ کدھر جائے گی

کر کے اے خانہ خرابی مری برباد مجھے

میں سمجھ جاتا ہوں اس میں کوئی کمزوری ہے

میرے جس شعر پہ ملتی ہے بہت داد مجھے