Poetry
Poet
Meter
- تڑپ سے چیخ اٹھے گا جو اسے خوں خار کہہ دیں گےکہے گا آپ بیتی جو اسے بیمار کہہ دیں گےJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- خلوتوں سے نباہ کر آیازندگی کو تباہ کر آیاJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- داستاں یوں بدل گئی ہوگیموج ساحل نگل گئی ہوگیJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- سرد راتوں کا حسیں اک خواب ہے چہرہ تراکیا کہوں بس منظر نایاب ہے چہرہ تراJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- خوب صورت شے ہر اک نکلی ہے تیری ذات سے ہیچھو کے شجروں کو گزرتی یہ ہوائیںJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- اتنا بڑا تو ہو مرا دالان کم سے کمدو چار دن تو رک سکیں مہمان کم سے کمUbaid Najibabadi (b. 1998)
- اوڑھ کر جو برف کا کمبل گیاآگ سے وہ شخص کیسے جل گیاUbaid Najibabadi (b. 1998)
- تم سے کس نے کہہ دیا کہ خودکشی کے ساتھ ہیںہم تو جاناں زندگی بھر زندگی کے ساتھ ہیںUbaid Najibabadi (b. 1998)
- جنبش لب اور ہے سوز نہانی اور ہےاس سے جو کہنی تھی مجھ کو وہ کہانی اور ہےUbaid Najibabadi (b. 1998)
- دشمنوں سے نہ سگے بھائی سے گھبراتے ہیںجو برے لوگ ہیں سچائی سے گھبراتے ہیںUbaid Najibabadi (b. 1998)
- زخم کھلتے ہیں تو اک درد نہاں کھینچتا ہےایسا لگتا ہے کوئی جسم سے جاں کھینچتا ہےUbaid Najibabadi (b. 1998)
- لوگ دریاؤں کی جھیلوں کی طرف دیکھتے ہیںہم مگر آپ کی آنکھوں کی طرف دیکھتے ہیںUbaid Najibabadi (b. 1998)
- نظر آتے ہیں وہ ہم کو خفا سےمرض اچھا نہ ہوگا یہ دوا سےUbaid Najibabadi (b. 1998)
- نہ جانے کیا کہانی ہو رہی ہےپریشاں زندگانی ہو رہی ہےUbaid Najibabadi (b. 1998)
- ہم سے جب اپنوں نے جھگڑا کر لیاتھک کے تنہائی سے سایہ کر لیاUbaid Najibabadi (b. 1998)
- جذبات کے قصے ہیں ہنر لفظ گری ہےپلکوں پہ سجائی ہے جو اشکوں کی لڑی ہےJaani Lakhnavi (b. 1998)
- چار سو رقص کناں حسرت مسمار کے ساتھعمر ڈھل جائے تری یاد کی دیوار کے ساتھJaani Lakhnavi (b. 1998)
- خیال حسن بے مثال دسترس میں آ گیاخودی پہ اختیار میرا پیش و پس میں آ گیاJaani Lakhnavi (b. 1998)
- قافلے لٹ گئے سر نوک سناں تک پہنچےجب بہاروں کے طلب گار خزاں تک پہنچےJaani Lakhnavi (b. 1998)
- کچھ ایسے محفل میں اپنی جانب سبھی کا وہ دھیان کھینچتا ہےبنا اجازت کے جیسے جسموں سے اک ملک جان کھینچتا ہےJaani Lakhnavi (b. 1998)
- کھیلوں گا پھر کبھی کوئی داؤ وصال پرفی الحال منحصر ہوں میں اپنے ملال پرJaani Lakhnavi (b. 1998)
- نیرنگیٔ وحشت کی دھنک دیکھ رہے ہیںٹوٹے ہوئے تارے کی چمک دیکھ رہے ہیںJaani Lakhnavi (b. 1998)
- اپنی حد سے گزر نہیں سکتےبد تمیزی تو کر نہیں سکتےOsama Jamil (b. 1998)
- اس کے معیار پر اترتے ہوئےلوگ دیکھے کئی بگڑتے ہوئےOsama Jamil (b. 1998)
- تم مرے بعد کچھ نیا کرناسوچ کا ترجمہ کیا کرناOsama Jamil (b. 1998)
- لوگ جس کو خدا سمجھتے ہیںہم اسے ارتقا سمجھتے ہیںOsama Jamil (b. 1998)
- مجھ سے بھی عشق کا صلہ حد ہےاور کوئی نہیں ملا حد ہےOsama Jamil (b. 1998)
- اداسیوں کو گلے لگائے اداس لڑکےبھٹک رہے ہیں فریب کھائے اداس لڑکےVikas Sahaj (b. 1998)
- اسے کیسے کریں سویکار موہنہماری ہو گئی ہے ہار موہنVikas Sahaj (b. 1998)
- الجھے بالوں والی لڑکیشاد خیالوں والی لڑکیVikas Sahaj (b. 1998)
- جو سچ نہیں ہے وہی دکھانا ترس نہ کھاناسدا ہمیں بے وفا بتانا ترس نہ کھاناVikas Sahaj (b. 1998)
- خود سے خود کی ان بن ہوں میںاک سلجھی سی الجھن ہوں میںVikas Sahaj (b. 1998)
- ربط دل سے کوئی بناؤ تمعشق نہ رنج ہی نبھاؤ تمDeepak Kamil (b. 1998)
- مندروں کی سنو عشق گھنشیام ہےدیو داسی کی آنکھوں میں اک رام ہےTahreem Amanullah Bukhari (b. 1998)
- تجھے آج رنج و ملال کیوںاسے کھو دیا تو سوال کیوںUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- تشنگی وہ تھی کہ جو روح تک آئی نہ گئیجسم کی پیاس لبوں سے بھی بجھائی نہ گئیUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- تمہارا ہاتھ تمہاری جبین چومتا ہےیہ کون ہے جو بدن دل نشین چومتا ہےUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- جب بہایا ہی نہیں آنکھ سے پانی میں نےایک ہی لفظ میں لکھ دی ہے کہانی میں نےUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- حادثے زیست کے اس دل میں جو گھر کرتے ہیںدشت آغوش میں وہ عمر بسر کرتے ہیںUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- دل کی تصویر سجانے نکلےاپنی تقدیر بنانے نکلےUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- دل محبت سے بھر نہ جائے کہیںتو بھی یک دم مکر نہ جائے کہیںUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- دے تسلی مرے خدا کوئیحال دل کی نہیں دوا کوئیUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- زندگی تو نے عجب بات یہ بتلائی ہےاک قیامت ہے بپا شہر میں رسوائی ہےUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- زندگی دشت میں گزاری ہےجس کا حاصل یہ بردباری ہےUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- سبھی قصہ کہانی کا برا انجام ہوتا ہےمحبت چھوٹ جائے تو محبت نام ہوتا ہےUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- کون کس کا عذاب ہوتا ہےسب کا اپنا حساب ہوتا ہےUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- محبت جو رکھتی اثر زندگی بھرنہیں روٹھتا ہم سفر زندگی بھرUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- محبتوں کا عذاب میں نے غموں کی صورت چکا دیا ہےنہ چھیڑ مجھ کو اے میرے دشمن کہ میں نے خود کو مٹا دیا ہےUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- مرے تصور میں آ رہے ہومجھے نشانہ بنا رہے ہوUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- یوں نہ ہو اب کہ ترا غم مجھے بنجر کر دےآج چھو کر مجھے صحرا سے سمندر کر دےUmood Abrar Ahmad (b. 1999)