اداسیوں کو گلے لگائے اداس لڑکے

Vikas Sahaj (b. 1998)

اداسیوں کو گلے لگائے اداس لڑکے

بھٹک رہے ہیں فریب کھائے اداس لڑکے

کسی کسی کو نصیب ہیں یہ اداسیاں بھی

کسی کو یہ بھی بتا نہ پائے اداس لڑکے

ہزار دکھ ہیں دلوں میں ان کے جنہیں چھپا کر

یہاں سبھی کو ہنسانے آئے اداس لڑکے

اداس رہنا سہی نہیں ہے یہ جان کر بھی

اداس رہنا نہ چھوڑ پائے اداس لڑکے

کسی کا کاندھا نصیب ہوتا تو یہ بھی سوتے

تمام راتیں جگے جگائے اداس لڑکے