جنبش لب اور ہے سوز نہانی اور ہے
Ubaid Najibabadi (b. 1998)جنبش لب اور ہے سوز نہانی اور ہے
اس سے جو کہنی تھی مجھ کو وہ کہانی اور ہے
زندگی کا بوجھ ڈھوتے جا رہے ہیں مستقل
اور اوپر سے یہ رنج رائگانی اور ہے
اس شجر پہ پھل کو آئے اک زمانہ ہو گیا
ڈال دو چٹکی سے گر تھوڑا سا پانی اور ہے
زندگی کی موج میں ہم بھول بیٹھے ہیں سبھی
زندگی کے بعد بھی اک زندگانی اور ہے
کس قدر حالات میرے کشمکش میں ہیں عبیدؔ
دل کی دھڑکن اور ہے خوں کی روانی اور ہے