یوں نہ ہو اب کہ ترا غم مجھے بنجر کر دے

Umood Abrar Ahmad (b. 1999)

یوں نہ ہو اب کہ ترا غم مجھے بنجر کر دے

آج چھو کر مجھے صحرا سے سمندر کر دے

تنگ و تاریک زمانوں میں رہوں گی کب تک

چشم بینا میں جگہ دے کے منور کر دے

کوئی آسیب مرے دل میں مکیں ہے کب سے

اے خدا تو ہی مرے حال کو بہتر کر دے

کاش اس رات میں یہ آخری امید مری

نقش بن بن کے مری آنکھ کو پتھر کر دے

میری آنکھوں میں سمندر کا چلن جاری ہو

کرۂ ارض کا غم دے کے ستم گر کر دے