زخم کھلتے ہیں تو اک درد نہاں کھینچتا ہے
Ubaid Najibabadi (b. 1998)زخم کھلتے ہیں تو اک درد نہاں کھینچتا ہے
ایسا لگتا ہے کوئی جسم سے جاں کھینچتا ہے
ہنستے چہروں سے عیاں ہوتے ہیں غم کے منظر
میرے جیسی کوئی تصویر کہاں کھینچتا ہے
جینا چاہوں بھی تو جینے نہیں دیتی دنیا
مرنا چاہوں تو مجھے سارا جہاں کھینچتا ہے
جھوٹ کہتا ہوں تو کرتا ہے پذیرائی مری
سچ بتاتا ہوں تو وہ شخص زباں کھینچتا ہے
پہلے میں کھینچتا رہتا تھا دھواں سگریٹ کا
اور اب مجھ کو یہ سگریٹ کا دھواں کھینچتا ہے
اس طرح چلتا چلا جاتا ہوں اس کی جانب
جیسے پیاسے کسی انساں کو کنواں کھینچتا ہے