نظر آتے ہیں وہ ہم کو خفا سے

Ubaid Najibabadi (b. 1998)

نظر آتے ہیں وہ ہم کو خفا سے

مرض اچھا نہ ہوگا یہ دوا سے

جواب اب دیتے ہیں دادا کو پوتے

دئے ڈرتے نہیں ہیں اب ہوا سے

بھلا بیٹھا ہے سب اچھائی میری

غلط الفاظ کیا نکلے ذرا سے

میں اس کو دھوکا دینا چاہتا ہوں

مرا دل بھر گیا ہے اب وفا سے

مجھے جینے کی اب حسرت نہیں ہے

مجھے آزاد کر دو اس سزا سے

کوئی جاتا نہیں مسجد کی جانب

خدا روٹھا ہے یا بندے خدا سے