کچھ ایسے محفل میں اپنی جانب سبھی کا وہ دھیان کھینچتا ہے
Jaani Lakhnavi (b. 1998)کچھ ایسے محفل میں اپنی جانب سبھی کا وہ دھیان کھینچتا ہے
بنا اجازت کے جیسے جسموں سے اک ملک جان کھینچتا ہے
وہ اور ہوں گے ہیں جن کی آنکھوں میں خواب آزاد آسماں کے
ہم اپنی زنجیر خود بناتے ہیں ہم کو زندان کھینچتا ہے
وجود اپنا خیال ہے تو عدم ہے اپنی خیالی منزل
دلیل ہونے کی جب نہیں ہے تو کیسا امکان کھینچتا ہے
ہماری مرضی کی راہ ہے یہ ہمیں خبر ہے کہ اس سفر میں
کسی کو دار و رسن پہ شکوہ کسی کو عرفان کھینچتا ہے
حسین منظر ہمیشہ حد نظر سے باہر رہے ہیں میرے
میں رائیگانی کو جی رہا ہوں مجھے بیابان کھینچتا ہے
اک آدھ کافر بھی مجھ کو جانیؔ ملے ہیں صحن حرم میں آ کر
اک آدھ ایسے ملے جنہیں بت کدے میں ایمان کھینچتا ہے