نہ جانے کیا کہانی ہو رہی ہے
Ubaid Najibabadi (b. 1998)نہ جانے کیا کہانی ہو رہی ہے
پریشاں زندگانی ہو رہی ہے
مسلسل ہجر ہنس کر کٹ رہا ہے
مسلسل بے ایمانی ہو رہی ہے
اداسی سے نکل آئے ہیں آنسو
عیاں سوز نہانی ہو رہی ہے
مسافر زخم کھا کر ہنس رہے ہیں
یہ کیسی حکمرانی ہو رہی ہے
ادھر بیٹا بگڑتا جا رہا ہے
ادھر بیٹی سیانی ہو رہی ہے
ہمیں ہنستے ہوئے دیکھا ہے جب سے
پشیماں رائیگانی ہو رہی ہے