چار سو رقص کناں حسرت مسمار کے ساتھ

Jaani Lakhnavi (b. 1998)

چار سو رقص کناں حسرت مسمار کے ساتھ

عمر ڈھل جائے تری یاد کی دیوار کے ساتھ

پہلے آتی ہے ہنر میں کسی تاثیر کی بو

شاعری آتی ہے پھر لہجہ و گفتار کے ساتھ

وہ بھی تو شہر تمنا سے نہیں لوٹے ہیں

ہم بھی محفل میں ہیں چپ قلب عزادار کے ساتھ

چارہ گر میری طبیعت کا بناتے ہیں مذاق

یہ سلوک اچھا نہیں آپ کے بیمار کے ساتھ

ایک سایہ ہے ترے قد کے برابر کوئی

چل رہا ہے جو مری ہستیٔ بیزار کے ساتھ

اس لئے اور کسی جلوے پہ آنکھیں نہ جمیں

جشن بینائی کریں گے ترے دیدار کے ساتھ