تمہارا ہاتھ تمہاری جبین چومتا ہے
Umood Abrar Ahmad (b. 1999)تمہارا ہاتھ تمہاری جبین چومتا ہے
یہ کون ہے جو بدن دل نشین چومتا ہے
رہ وفا میں وفا کو نباہ کر عباس
زمین کرب و بلا کی زمین چومتا ہے
ہر ایک لب پہ ہے جاری درود آل رسول
ہر ایک شخص محمد کا دین چومتا ہے
اب اس کے ہاتھ نہ آنا تباہ کر دے گا
یہ کار عشق ہے ہر اک حسین چومتا ہے
تمھارے بعد تمھارے خیال میں اکثر
لگا کے کوئی مری آستین چومتا ہے
کبھی کبھی در و دیوار دیکھ کر مرے دوست
مکان خالی ہے جس کو مکین چومتا ہے
وہ اس لیے بھی میسر نہیں کسی کو عمودؔ
فقیر شخص ہے اور سرزمین چومتا ہے