کھیلوں گا پھر کبھی کوئی داؤ وصال پر

Jaani Lakhnavi (b. 1998)

کھیلوں گا پھر کبھی کوئی داؤ وصال پر

فی الحال منحصر ہوں میں اپنے ملال پر

صورت نہیں عروج کی سب کچھ طلسم ہے

دنیا کی نیو رکھی گئی ہے زوال پر

دیکھا ہے جب سے اس نے نتیجہ اڑان کا

خود ہی کتر دئے ہیں پرندے نے بال پر

ٹھوکر پہ رکھ نہ دے ترے سکوں کو بادشاہ

درویش آ رہا ہے اب اپنے کمال پر

اک ٹک نہ دیکھیے کہ اسے ٹوٹنا بھی ہے

رہ رہ کے ڈالا کیجے نگاہیں سفال پر

وحشت کی کشتیوں پہ ہیں جانیؔ سوار اور

آمادہ ہو رہی ہیں یہ لہریں اچھال پر