اس کے معیار پر اترتے ہوئے
Osama Jamil (b. 1998)اس کے معیار پر اترتے ہوئے
لوگ دیکھے کئی بگڑتے ہوئے
آدمی راکھ ہو گیا اک دن
دھوپ کو چھاؤں میں بدلتے ہوئے
پہلے تو جسم سے ہوا واقف
وہ مری روح میں اترتے ہوئے
آئنوں سے مری نہیں بنتی
دیکھتے ہیں اسے سنورتے ہوئے
یہ تمنا ہی رہ گئی خود کو
دیکھنا چاہتا ہوں مرتے ہوئے