اوڑھ کر جو برف کا کمبل گیا
Ubaid Najibabadi (b. 1998)اوڑھ کر جو برف کا کمبل گیا
آگ سے وہ شخص کیسے جل گیا
آبلہ پائی نے ہمت توڑ دی
پھر مسافر اپنے سر کے بل گیا
کر رہی ہے جو بغاوت یہ ہوا
آشیاں پنچھی کا اس کو کھل گیا
جسم زخمی تیرگی کا ہو گیا
ہاتھ میں لے کر کوئی مشعل گیا
حسن جاناں کا سفر سورج سا ہے
صبح چمکا شام کو پھر ڈھل گیا
ہاتھ میرا کوئی صندل تو نہیں
سانپ کیسے آستیں میں پل گیا
پیاس نے آواز دریا کو نہ دی
کام پھر سے آنسوؤں سے چل گیا