Poetry
Poet
Meter
- ڈرتے تھے اسی سبزہ آبائی سے پہلےچہرے پہ مسیں پھوٹ پڑیں کائی سے پہلےPallav Mishra (b. 1998)
- قریب آنے لگا وہ تو رات گہری ہوئیوہ رات ٹھہری رہی جب تلک دوپہری ہوئیPallav Mishra (b. 1998)
- کچھ ایسے دو جہاں سے رابطہ رکھا گیا ہےکہ ان خوابیدہ آنکھوں کو کھلا رکھا گیا ہےPallav Mishra (b. 1998)
- لہو میں گھل گھل کے بہہ رہے تھے رگوں کے اندرہم اپنی مٹی میں کچھ روانی بچا رہے تھےPallav Mishra (b. 1998)
- نہیں تھا کوئی گلہ آگ کو روانی سےہوا تھی جس نے لیا انتقام پانی سےPallav Mishra (b. 1998)
- وہ بار فرض تکلف مجھی کو ڈھونا پڑااسے رلانے کی خاطر مجھے بھی رونا پڑاPallav Mishra (b. 1998)
- آنسوؤں میں مرے کاندھے کو ڈبونے والےپوچھ تو لے کہ مرے جسم کا صحرا ہے کہاںPallav Mishra (b. 1998)
- ترے لبوں میں مرے یار ذائقہ نہیں ہےہزار بوسے ہیں ان پر پہ اک دعا نہیں ہےPallav Mishra (b. 1998)
- تمام فرق محبت میں ایک بات کے ہیںوہ اپنی ذات کا نئیں ہے ہم اس کی ذات کے ہیںPallav Mishra (b. 1998)
- تمام ہوش ضبط علم مصلحت کے بعد بھیپھر اک خطا میں کر گیا تھا معذرت کے بعد بھیPallav Mishra (b. 1998)
- شہر جاں میں وباؤں کا اک دور تھامیں ادائے تنفس میں کمزور تھاPallav Mishra (b. 1998)
- مکین دل کو خانماں خراب سے عشق تھاقیام ڈھونڈھتا رہا تمہاری چھت کے بعد بھیPallav Mishra (b. 1998)
- میں اپنی موت سے خلوت میں ملنا چاہتا ہوںسو میری ناؤ میں بس میں ہوں ناخدا نہیں ہےPallav Mishra (b. 1998)
- وہ نشہ ہے کے زباں عقل سے کرتی ہے فریبتو مری بات کے مفہوم پہ جاتا ہے کہاںPallav Mishra (b. 1998)
- ہمارا کام تو موسم کا دھیان کرنا ہےاور اس کے بعد کے سب کام شش جہات کے ہیںPallav Mishra (b. 1998)
- یہ جسم تنگ ہے سینے میں بھی لہو کم ہےدل اب وہ پھول ہے جس میں کہ رنگ و بو کم ہےPallav Mishra (b. 1998)
- یہ طے ہوا تھا کہ خوب روئیں گے جب ملیں گےاب اس کے شانے پہ سر ہے تو ہنستے جا رہے ہیںPallav Mishra (b. 1998)
- آغاز سے انجام سفر دیکھ رہا ہوںدیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہا ہوںBalmohan panday (b. 1998)
- اداس رہنا بھی ایک کلا ہے اداس رہیےکسی کسی کو یے فن ملا ہے اداس رہیےBalmohan panday (b. 1998)
- اس سے پہلے کہ کوئی اور ہٹا دے مجھ کواپنے پہلو سے کہیں دور بٹھا دے مجھ کوBalmohan panday (b. 1998)
- ترے خیال کا دامن سخن نے تھام لیافراق میں بھی محبت سے خوب کام لیاBalmohan panday (b. 1998)
- ٹوٹے دل سے کوئی امید لگا کر رکھنااتنا آسان نہیں پھول پہ پتھر رکھناBalmohan panday (b. 1998)
- دیار غم سے ہم باہر نکل کے شعر کہتے ہیںمسائل ہیں بہت سے ان میں ڈھل کے شعر کہتے ہیںBalmohan panday (b. 1998)
- روانگی میں سمے کا خیال کرتے ہیںپھر اس کو بھیج کے پہروں ملال کرتے ہیںBalmohan panday (b. 1998)
- سب کے ہونٹوں پہ یہ مرنے کی دعائیں کیسیچارہ گر تو نے ہمیں دیں ہیں دوائیں کیسیBalmohan panday (b. 1998)
- سر فراق بھی ترک انا نہیں ہوتیکہ ٹوٹ جاتی ہے دیوار وا نہیں ہوتیBalmohan panday (b. 1998)
- سمے سے پہلے بھلے شام زندگی آئےکسی طرح بھی اداسی کا گھاؤ بھر جائےBalmohan panday (b. 1998)
- ضائع ہوا تمام ہنر نیند آ گئیشب کو سجا رہا تھا مگر نیند آ گئیBalmohan panday (b. 1998)
- عیش ماضی کے گنا حال کا طعنہ دے دےگھر پلٹنے کے لیے کوئی بہانہ دے دےBalmohan panday (b. 1998)
- کھل کے رو لینے سے دل ہلکان ہو جائے گا کیامسکرا دوں گا تو سب آسان ہو جائے گا کیاBalmohan panday (b. 1998)
- نکل پاؤں میں کیسے اس اثر سےمہکتے پھول جھڑتے ہیں نظر سےBalmohan panday (b. 1998)
- تری طلب کا سبب صرف خالی پن تو نہیںکہ تجھ سے رابطہ میرا ضرورتاً تو نہیںBalmohan panday (b. 1998)
- میں بہت سادہ تھا ہر بات کو سادہ سمجھاپھول کو پھول کہا تارے کو تارا سمجھاBalmohan panday (b. 1998)
- میں نے اپنی آپ مدد کیمیں نے اپنے آنسو پونچھےBalmohan panday (b. 1998)
- اپنے تصورات سے آگے نکل گیاکل شب میں کائنات سے آگے نکل گیاOsaama ameer (b. 1998)
- ایک دنیا نئی بنائیں گےہو بہ ہو آپ سی بنائیں گےOsaama ameer (b. 1998)
- بازار کائنات میں یہ فیصلہ ہوایاران خوش ادا ہو تمسخر روا ہواOsaama ameer (b. 1998)
- پری کے آنے کے امکان بنتے جاتے ہیںیہ دشت سارے گلستان بنتے جاتے ہیںOsaama ameer (b. 1998)
- جب روشنی چمکی تو اٹھایا سر ساحلمٹی کے پیالے میں تھا سونا سر ساحلOsaama ameer (b. 1998)
- ذہن میرا قیاس پہنے ہوئےدل ہے خوف و ہراس پہنے ہوئےOsaama ameer (b. 1998)
- زمیں پہ بیٹھ کے بے اختیار ڈھونڈھتا ہوںمیں آسمان کا گرد و غبار ڈھونڈھتا ہوںOsaama ameer (b. 1998)
- عجیب رات تھی وہ رات میں نہیں آیاکہ میرے خواب طلسمات میں نہیں آیاOsaama ameer (b. 1998)
- کبھی کبھی میں انہیں دل میں آن رکھتا ہوںپھر ایک خواب میں دونوں جہان رکھتا ہوںOsaama ameer (b. 1998)
- کتنے اسرار واہمے میں ہیںہم کہ مصروف کھوجنے میں ہیںOsaama ameer (b. 1998)
- میں نے سن رکھی ہے صاحب ایک کہانی دریا کیشام کنارے بیٹھ کے اک دن وہ بھی زبانی دریا کیOsaama ameer (b. 1998)
- اب بھلا کیا دیکھتے ہو آب میںغرق سب کچھ ہو گیا گرداب میںJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- ان سے مل کر بھی بھلا کیا کیجئےپاس بیٹھے اور شکوہ کیجئےJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- بارہا بس مجھے یوں لگتا ہےہے کوئی جو مجھے ہی تکتا ہےJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- بچھڑ کے غم میں تیرے کتنا تنہا ہو گیا ہوں میںگلی کا جوں کوئی ویران کونا ہو گیا ہوں میںJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- بندگی میں جو حبیبوں کی رہا سر میراتھوپنے کے لئے الزام ملا سر میراJai Raj Singh Jhala (b. 1998)