خیال حسن بے مثال دسترس میں آ گیا
Jaani Lakhnavi (b. 1998)خیال حسن بے مثال دسترس میں آ گیا
خودی پہ اختیار میرا پیش و پس میں آ گیا
یہیں کہیں پہ آخری پڑاؤ زندگی کا ہے
تمہارا سوگ آج لہجۂ جرس میں آ گیا
نظر کو پھیر کر اسیر درد کر گئے ہو تم
میں اک پرند بے نوا کسی قفس میں آ گیا
وہ راستوں کے پیچ و خم سنوارتا چلا گیا
ادھر بھی حوصلہ سا کچھ نفس نفس میں آ گیا
چمن چمن خزاں کی رت کا ہم سفر بنا رہا
کچھ ایسا رنگ گلستاں کے خار و خس میں آ گیا
وہ ممکنات کا سفر جو طے کیا گیا نہیں
گمان سے نکل گیا ہے اب ہوس میں آ گیا
یقین سے ہے بالاتر کہ آج تک دل عمرؔ
کسی کے بس کا تھا نہیں کسی کے بس میں آ گیا