اپنی حد سے گزر نہیں سکتے

Osama Jamil (b. 1998)

اپنی حد سے گزر نہیں سکتے

بد تمیزی تو کر نہیں سکتے

مجھ پہ تہمت لگانے والے سن

تیرے جیسے سدھر نہیں سکتے

بوجھ لگتے ہیں میرے کاندھوں پر

کیا فرشتے اتر نہیں سکتے

آپ جیسوں پہ رحم آتا ہے

آپ جیسوں سے ڈر نہیں سکتے

اپنی ضد میں انا بھی لازم ہے

ٹوٹ جائیں بکھر نہیں سکتے

کچھ حیا بھی لگائیے منہ پر

اس طرح تو سنور نہیں سکتے

تم مری شاعری میں زندہ ہو

مر بھی جاؤ تو مر نہیں سکتے