جذبات کے قصے ہیں ہنر لفظ گری ہے
Jaani Lakhnavi (b. 1998)جذبات کے قصے ہیں ہنر لفظ گری ہے
پلکوں پہ سجائی ہے جو اشکوں کی لڑی ہے
اک بھولی ہوئی یاد کی تصویر بنی ہے
اے راحت جاں راز یہ معلوم ہے ہم کو
اک تیرے سوا جو بھی یہاں شے ہے بری ہے
خاموشی ہے اب میری سماعت کا تقاضہ
پائل کی کھنک کان پہ زنجیر زنی ہے
مدہوشی کا عالم ہے اسے وہم و گماں میں
وحشت میں کسے چاک گریباں کی پڑی ہے
دل ضبط کی آتش میں جلایا ہے مسلسل
پتھر بھی پگھل جائے وہ لفظوں میں نمی ہے