ہم سے جب اپنوں نے جھگڑا کر لیا

Ubaid Najibabadi (b. 1998)

ہم سے جب اپنوں نے جھگڑا کر لیا

تھک کے تنہائی سے سایہ کر لیا

سر پٹکتی رہ گئیں خودداریاں

اس نے جب ہاتھوں کو کاسہ کر لیا

درد کی آواز تک آتی نہیں

زخم ہم نے اتنا گہرا کر لیا

مفلسی کی کوکھ سے پیدا ہوئے

اس لئے تو ہنس کے فاقہ کر لیا

وقت کے پاؤں میں سر رکھ کر عبیدؔ

ہم نے اس دنیا سے پردہ کر لیا