مندروں کی سنو عشق گھنشیام ہے

Tahreem Amanullah Bukhari (b. 1998)

مندروں کی سنو عشق گھنشیام ہے

دیو داسی کی آنکھوں میں اک رام ہے

ہادم وقت جب پھاوڑا سونت لے

اس کو پھر کیا خبر سبز ہے چام ہے

میں نے صبحوں کی آمد پہ نظمیں کہیں

اور چیخیں سنیں شام ہے شام ہے

سانوری سے کہو چوڑیاں توڑ لے

خواب ہے قام ہے اور پھر سام ہے