محبت جو رکھتی اثر زندگی بھر
Umood Abrar Ahmad (b. 1999)محبت جو رکھتی اثر زندگی بھر
نہیں روٹھتا ہم سفر زندگی بھر
ہے کیسی یہ الفت کے تو نے کبھی بھی
نہ رکھی مری کچھ خبر زندگی بھر
لٹاتے رہے وہ جہاں میں محبت
ہمیں ہی کیا در بدر زندگی بھر
خلاصہ بیاں میری آنکھیں کریں گی
اٹھایا نہیں میں نے سر زندگی بھر
کیا قتل ہاتھوں سے جذبوں کا میں نے
جلا کر یہ خون جگر زندگی بھر
بنانا جو چاہا تھا ہاتھوں سے میں نے
بنا ہی نہ پائی وہ گھر زندگی بھر
ہے جو کچھ بھی پایا اسے کھو نہ دیں ہم
ہمیشہ رہا دل میں ڈر زندگی بھر
عداوت محبت سے بہتر ہی ہوگی
رکھی تم نے قائم اگر زندگی بھر
ستم ڈھا رہے ہیں محبت جتا کر
ہے ان کا یہ حسن نظر زندگی بھر