ربط دل سے کوئی بناؤ تم

Deepak Kamil (b. 1998)

ربط دل سے کوئی بناؤ تم

عشق نہ رنج ہی نبھاؤ تم

اختلافات باسلیقہ ہو

خود گرو نہ ہمیں گراؤ تم

پھاگنی دھوپ سی تری صورت

ماسک سے نہ اسے چھپاؤ تم

دل مرے وہ ہنسی چھلاوا ہے

خواہ مخواہ بات نہ بڑھاؤ تم

عمر بھر دوڑتی مشینیں ہیں

آدمی ہے کہاں دکھاؤ تم

گاڑیاں عیش نوکری پیسہ

دوستی میں انہیں نہ لاؤ تم

بعد تیرے چلے تری ہو کر

وہ نئی داستاں سناؤ تم

گاؤں ماں سا یہی پکارے ہے

تھک گئے ہو تو لوٹ آؤ تم