قافلے لٹ گئے سر نوک سناں تک پہنچے

Jaani Lakhnavi (b. 1998)

قافلے لٹ گئے سر نوک سناں تک پہنچے

جب بہاروں کے طلب گار خزاں تک پہنچے

آپ کا عشق مسافت ہے تو بس اتنا کہ ہم

دشت امکاں سے چلے دشت زیاں تک پہنچے

ہم سے پوچھو کہ سمٹ آتا ہے کیسے گریہ

لمحے لمحے کا سفر بار گراں تک پہنچے

میرے حصے میں دلاسے پہ دلاسے آئے

خوش نصیبان سفر تیری اماں تک پہنچے

مدتوں خاک اڑائی گئی صحرا صحرا

تب کہیں جا کے ترے نام و نشاں تک پہنچے

بارہا ضبط‌ مسلسل کو بکھرتے دیکھا

لفظ در لفظ وہ جب میری زباں تک پہنچے

پھر نئی راہ نظر آنے لگی ہے مجھ کو

جب مرے سارے یقیں حسن گماں تک پہنچے