لوگ دریاؤں کی جھیلوں کی طرف دیکھتے ہیں

Ubaid Najibabadi (b. 1998)

لوگ دریاؤں کی جھیلوں کی طرف دیکھتے ہیں

ہم مگر آپ کی آنکھوں کی طرف دیکھتے ہیں

اپنے حصے میں سلیقے کا کوئی غم ہی نہیں

اس لیے عشق کی راہوں کی طرف دیکھتے ہیں

آنکھ سے اشک نکلتے ہیں معافی بن کر

جب بھی ہم اپنے گناہوں کی طرف دیکھتے ہیں

شعر لکھا نہیں جاتا ہے عطا ہوتا ہے

بے سبب لوگ خیالوں کی طرف دیکھتے ہیں

نیند آتی ہے تو سو جاتے ہیں یک دم سے عبیدؔ

آنکھ کھلتی ہے تو خوابوں کی طرف دیکھتے ہیں