زندگی دشت میں گزاری ہے

Umood Abrar Ahmad (b. 1999)

زندگی دشت میں گزاری ہے

جس کا حاصل یہ بردباری ہے

موت کا نام لے رہے ہو تم

زندگی کب بھلا ہماری ہے

شام وہ گھر کو دیر سے پہنچا

جس کی آنکھوں میں خواب جاری ہے

لاکھ رکھی ہیں حسرتیں تم نے

جانے کس بات کی خماری ہے

ہم زمانے کو پڑھنے نکلے تھے

اب تو خود داستاں ہماری ہے

بند دروازے ہی ملیں گے تمہیں

اس قدر مجھ پہ خوف طاری ہے

سچ کا پردہ اٹھا تو یہ جانا

زندگی جھوٹ میں گزاری ہے

جس کا حاصل بھی خود میں لا حاصل

اس سے بہتر تو جاں نثاری ہے

جب تمنا ہی اٹھ گئی دل سے

پھر بھی کیوں جستجو تمہاری ہے

تو نے رکھا ہے سر تو بتلا دوں

میرے شانوں پہ بوجھ بھاری ہے

سب کو ہنستا دکھا حسیں چہرہ

دل کے اندر تو آہ و زاری ہے