تشنگی وہ تھی کہ جو روح تک آئی نہ گئی

Umood Abrar Ahmad (b. 1999)

تشنگی وہ تھی کہ جو روح تک آئی نہ گئی

جسم کی پیاس لبوں سے بھی بجھائی نہ گئی

میں نے ہر سمت ہی دیکھا ہے اسے جان بہار

گردش وقت کی تصویر گھمائی نہ گئی

ہائے وہ خون کے پیاسے ہیں انہیں کیا معلوم

لاش ماں باپ کی بچوں سے اٹھائی نہ گئی

ایک دن باغ طلسمات میں دیکھا میں نے

سبز پیڑوں کو کوئی بات سنائی نہ گئی

بارہا دیکھا ہے یک طرفہ تماشا میں نے

خاک اس دشت نوردی میں اڑائی نہ گئی

ہم نے کوشش تو بہت کی تھی مگر ہم سے اے دوست

اک تری یاد تھی جو ہم سے بھلائی نہ گئی

اس کی تمثیل گری دیکھ کے اندازہ ہوا

ہم سے کیوں خاک بسر زیست کمائی نہ گئی

ان کے قدموں کی میں آہٹ سے ہی پہچان گئی

در و دیوار کو آواز لگائی نہ گئی

سب نے اس ملک کو لوٹا ہے مہارت سے عمودؔ

حکمرانوں سے یہی بات چھپائی نہ گئی