نیرنگیٔ وحشت کی دھنک دیکھ رہے ہیں

Jaani Lakhnavi (b. 1998)

نیرنگیٔ وحشت کی دھنک دیکھ رہے ہیں

ٹوٹے ہوئے تارے کی چمک دیکھ رہے ہیں

اس آئنہ خانہ نما عالم سے نکل کر

کچھ لوگ پس بام فلک دیکھ رہے ہیں

دل گلیوں میں بیٹھے ہوئے خوابیدہ مسافر

اس شہر تمنا کی سڑک دیکھ رہے ہیں

گنوائیں گے بنیاد کی کمیاں بھی ابھی ہم

دیواروں پہ منقوش درک دیکھ رہے ہیں

اک بود کو پھر ہست بنانے پہ تلا ہے

حیرت سے ہم اس دل کی سنک دیکھ رہے ہیں

دنیا نے جسے قبر کہا ہے ہم اسی میں

اک حسن مجسم کی جھلک دیکھ رہے ہیں

ہم گوش بر آواز عدم لوگ ہیں جانیؔ

آواز خموشی کی کھنک دیکھ رہے ہیں