دل کی تصویر سجانے نکلے
Umood Abrar Ahmad (b. 1999)دل کی تصویر سجانے نکلے
اپنی تقدیر بنانے نکلے
راستہ کچھ تو کٹھن ہونا تھا
ہم جو تعبیر کو پانے نکلے
ہم نے سیکھا ہے محبت کرنا
خواب کے تیر سہانے نکلے
جب منور ہوا خوشبو سے دل
حادثے میں بھی خزانے نکلے
اتنا آسان نہیں جینا بھی
ان سے پوچھو جو کمانے نکلے
دل کے دریا نے اترنا چاہا
آنکھ سے لوگ پرانے نکلے
ہم نکل آئے ہیں اک عہد لئے
کون منزل کو گنوانے نکلے
آج سوئے ہوئے لوگوں میں ہم
دل کے جگنو کو جگانے نکلے
تم نے کرنا ہے جو وہ کر ڈالو
ہم تو خود شمع جلانے نکلے