Poetry
Poet
Meter
- ہم کو ہے جس کی طلب وہ یار ملتا ہی نہیںدل چرا کے لے گیا دل دار ملتا ہی نہیںعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
- تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیںسپہر الفت کے ہیں ستارے کہ شام غم میں چمک رہے ہیںاثر صہبائی
- تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوئےتمہارے درد کو سینے سے ہوں لگائے ہوئےاثر صہبائی
- ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گالے کے ہمراہ مہ داغ جگر جاؤں گااثر صہبائی
- لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میںعمر تمام کٹ گئی کاوش احتساب میںاثر صہبائی
- مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیںمگر اہل دل آواز شکست دل سمجھتے ہیںاثر صہبائی
- رموز محبتاثر صہبائی
- اپنی ناکام تمناؤں کا ماتم نہ کروتھم گیا دور مئے ناب تو کچھ غم نہ کروعبدالعزیز فطرت
- خاموش کلی سارے گلستاں کی زباں ہےیہ طرز سخن آبروئے خوش سخناں ہےعبدالعزیز فطرت
- غنچے کا جواب ہو گیا ہےدل کھل کے گلاب ہو گیا ہےعبدالعزیز فطرت
- کچھ ایسا تھا گمرہی کا سایااپنا ہی پتا نہ ہم نے پایاعبدالعزیز فطرت
- کیا کہیں ملتا ہے کیا خوابوں میںدل گھرا رہتا ہے مہتابوں میںعبدالعزیز فطرت
- مری میں جشن شب منورعبدالعزیز فطرت
- بے خبر اپنے مقدر سے رہا پہلے پہلجب قدم شہر زلیخا میں رکھا پہلے پہلDawood Kashmiri
- درد اک شمع تفکر ہے اگر سمجھو توفہم انساں کا تبحر ہے اگر سمجھو توDawood Kashmiri
- عجب حسرت سے تکتے ہیں نگر کے بند در مجھ کوچلا جاتا ہوں لے جاتی ہے تنہائی جدھر مجھ کوDawood Kashmiri
- میری وفا مقیم ہے گرد و غبار میںآہستہ چلنا باد صبا کوئے یار میںDawood Kashmiri
- مے خانہ کی رونق ہے جدا شان حرم اورمے کش کا مزاج اور ہے زاہد کا بھرم اورDawood Kashmiri
- ہر حقیقت ہے وہی خواب پریشاں کہ جو تھاجذبۂ دل ہے وہی چاک گریباں کہ جو تھاDawood Kashmiri
- اس زندگی نے بخشے جو تحفے عجیب ہیںپگڈنڈیاں ہیں دور تک رستے عجیب ہیںGauhar Seema
- چلو دنیا میں مہکائیں محبتبشر کو آؤ سکھلائیں محبتGauhar Seema
- زندگی کو ایک معنی دے گیاوہ مجھے اک رت سہانی دے گیاGauhar Seema
- زیست میں تاریکیاں بڑھتی گئیںلمحہ لمحہ سسکیاں بڑھتی گئیںGauhar Seema
- کیا اب کسی کی آرزو یا جستجو کریںاب خود سے ہی سوال کریں گفتگو کریںGauhar Seema
- وحشتوں کا آج پھر چرچا رہاآج پھر یہ دل مرا ٹھہرا رہاGauhar Seema
- اب زندگی کا کوئی سہارا نہیں رہاسب غیر ہیں کوئی بھی ہمارا نہیں رہاGhazal Ansari
- ایسی تحریر جو آنسو کی جھڑی ثابت ہوپھر توقع کہ محبت بھی کڑی ثابت ہوGhazal Ansari
- بپھرے دریا کی روانی سے نکل آئے ہیںہم بنا بھیگے ہی پانی سے نکل آئے ہیںGhazal Ansari
- بھلانا ہے بہت مشکل مگر پھر بھی بھلانا ہےتری یادوں کو دل سے اب تو ہر صورت مٹانا ہےGhazal Ansari
- غیروں کی بستیوں میں رہنے کو آ رہے ہیںاس دل کو چھوڑ کر ہم دنیا بنا رہے ہیںGhazal Ansari
- نہ فکر کرنا ہمارے دل کی نہ اس جنوں کا ملال رکھنایہ التجا ہے ہماری تم سے تم اپنے دل کو سنبھال رکھناGhazal Ansari
- بندہ پتلا خطا کا ہوتا ہےمسئلہ تو انا کا ہوتا ہےIbn-e-Ummeed
- بن کے حسرت سما گیا اک شخصمجھ کو آنسو بنا گیا اک شخصIbn-e-Ummeed
- جسم کے خول میں اک شہر انا رکھا ہےنام جیون کا تبھی ہم نے سزا رکھا ہےIbn-e-Ummeed
- جو جنوں تھا سو وہ اب نہیںمجھے اب تمہاری طلب نہیںIbn-e-Ummeed
- ہنسنا آہ و فغاں سے سیکھا ہےیہ ہنر بھی جہاں سے سیکھا ہےIbn-e-Ummeed
- اک رات اندھیری ہےاور وقت کی آندھی ہےIbn-e-Ummeed
- بدل بدل کے وہ چولا مکان سے نکلاکسی کا تیر کسی کی کمان سے نکلاKafeel Anwar
- ترے وجود کو بس آن بان میں رکھاکوئی بھی عکس نہ سونے مکان میں رکھاKafeel Anwar
- جہاں سے الگ اک جہاں چاہتا ہوںزمیں اور نیا آسماں چاہتا ہوںKafeel Anwar
- جہاں میں کوئی تمہارا جواب ہو نہ سکاستارا لاکھ بڑھا آفتاب ہو نہ سکاKafeel Anwar
- سورج چاند ستارے روشندھرتی کے مہ پارے روشنKafeel Anwar
- وہ کیا گیا مسلط مرا حال دیکھنے کوکہ عروج زندگانی کا زوال دیکھنے کوKafeel Anwar
- آئینہ در آئینہ قد آوری کا کرب ہےگمشدہ دانش وری ہے خود سری کا کرب ہےKaleem Haider Sharar
- انا زدہ تھا کہیں پر کہیں پر آن زدہزمیں کی زد سے نکلنے تک آسمان زدہKaleem Haider Sharar
- بہت تھا ناز جن پر ہم انہیں رشتوں پہ ہنستے ہیںہمیں کیا رسم دنیا ہے کہ سب اپنوں پہ ہنستے ہیںKaleem Haider Sharar
- حقیقت ہے اسے مانیں نہ مانیں گھٹتی بڑھتی ہیںوہ جھوٹی ہوں کہ سچی داستانیں گھٹتی بڑھتی ہیںKaleem Haider Sharar
- زندہ رہنے کا بھرم آ کے کہاں پر ٹوٹااک ستارہ سا مری شہ رگ جاں پر ٹوٹاKaleem Haider Sharar
- کئی لوگوں نے پھلتے پھولتے پیڑوں سے جانا ہےمگر میں نے تجھے سبزے کی عریانی سے پہچاناKaleem Haider Sharar
- احساس قربتوں کا دلاتے ہوئے تجھےہم ڈوبنے لگے ہیں بچاتے ہوئے تجھےKalicharan Singh