بے خبر اپنے مقدر سے رہا پہلے پہل

Dawood Kashmiri

بے خبر اپنے مقدر سے رہا پہلے پہل

جب قدم شہر زلیخا میں رکھا پہلے پہل

بازگشت اس کی ہیں جتنی بھی یہ آوازیں ہیں

ہر طرف گونج گئی ایک صدا پہلے پہل

اپنی منزل کا وہیں ہو گیا عرفان مجھے

جب ملا راہ میں اک نقش وفا پہلے پہل

لوگ پہچان نہ پائے کسی دیوانے کو

جانے کس طرح یہ دستور بنا پہلے پہل

آج ہر شخص کو دعویٰ ہے خدائی کا یہاں

جب کہ ہر شخص کا تھا ایک خدا پہلے پہل