اک رات اندھیری ہے

Ibn-e-Ummeed

اک رات اندھیری ہے

اور وقت کی آندھی ہے

طغیانی کے عالم میں

اک رات گھروندا ہے

امید کا دیپک ہے

پروانے سا جذبہ ہے

اک میں ہوں خدا بھی ہے

اک روز سحر ہوگی

اک روز سحر ہوگی