درد اک شمع تفکر ہے اگر سمجھو تو

Dawood Kashmiri

درد اک شمع تفکر ہے اگر سمجھو تو

فہم انساں کا تبحر ہے اگر سمجھو تو

میٹھے بولوں میں نہیں محض تسلی میں نہیں

جہد پیہم کا تصور ہے اگر سمجھو تو

یہ حقیقت کے قلم سے لکھا افسانہ ہے

یہ ہی عرفان تفکر ہے اگر سمجھو تو

یہ عبادت ہے تہجد کی یہ ہوگی مقبول

جوش امید سے یہ پر ہے اگر سمجھو تو

تیشۂ کوہ کنی آتش نمرود ہے یہ

آزمائش کا تقرر ہے اگر سمجھو تو

عکس اس کا نہیں آئینۂ تقدیر میں ہاں

دعوت فکر و تدبر ہے اگر سمجھو تو