Poetry
Poet
Meter
- ہے کھیل جاری ازل سے یہ اوج و پستی کاعروج جس کا کبھی تھا زوال ہے اس کاSabiha Khan
- یہی کاغذ یہی قلم ہوگاروز اک واقعہ رقم ہوگاSabiha Khan
- تمہاری تیغ نگاہ معجز نما نے بے موت جس کو ماراتو پاسبانی میں اس شہید وفا کی آکر اجل رہی ہےTabeeb Arvi
- رفتہ رفتہ دل پر اس کافر کا قبضہ ہو گیادیکھتے ہی دیکھتے کعبہ کلیسا ہو گیاTabeeb Arvi
- ضیائے حسن جاناں جاگزیں معلوم ہوتی ہےبیاض چشم دل عرش بریں معلوم ہوتی ہےTabeeb Arvi
- محفل یار میں اغیار رہا کرتے ہیںایک ہم ہیں کہ جدائی میں جلا کرتے ہیںTabeeb Arvi
- نہ ٹھہرا دل مرا غم کھانے والاگیا دنیا سے آخر جانے والاTabeeb Arvi
- نہ دم باقی ہے آنکھوں میں نہ دل میں جان باقی ہےمگر دونوں میں تیری دید کا ارمان باقی ہےTabeeb Arvi
- وحشی تیرا طرز جنوں میں سب سے رہا بیگانہ بھیقیس سے گو الفت بھی رہی فرہاد سے تھا یارانہ بھیTabeeb Arvi
- اپنے حصے کی زمیں بھی چاہیےدل مکاں کو اک مکیں بھی چاہیےTahira Jabeen
- جو بھی حق پر ہو وہی دار و رسن تک پہنچےآدمی آج کا یوں رسم کہن تک پہنچےTahira Jabeen
- جو سر پر ہے شجر میرا نہیں ہےمکیں ہوں اور گھر میرا نہیں ہےTahira Jabeen
- زندگی سے ہو مفر ممکن نہیںلاکھ چاہو تم مگر ممکن نہیںTahira Jabeen
- کبھی اثر نہ مرے حرف مدعا میں رہانہ اختیار کوئی دست نارسا میں رہاTahira Jabeen
- میں کیا مثال دوں کوئی تری مثال کے بعدنہیں جمال کوئی بھی ترے جمال کے بعدTahira Jabeen
- نغمۂ زیست گنگنائے کونآگہی کا عذاب اٹھائے کونTahira Jabeen
- چلو چراغ بجھا کر ذرا سا دیکھیں ہمیہ کائنات کسے ڈھونڈنے نکلتی ہےUmar Farooq
- اب کوئے صنم چار قدم ہی کا سفر ہےکچھ اور مسافت کو ٹھہر کیوں نہیں جاتےUmar Farooq
- اٹھے جو تیرے در سے تو دنیا سمٹ گئیبیٹھے تھے تیرے در پہ زمانہ لیے ہوئےUmar Farooq
- بدن کا بوجھ اٹھانا بھی اب محال ہواجو خود سے ہار کے بیٹھے تو پھر یہ حال ہواUmar Farooq
- مجھے خرید رہے ہیں مرے سبھی اپنےمیں بک تو جاؤں مگر سامنے تو آئے کوئیUmar Farooq
- مرے مالک مجھے اس خاک سے بے گھر نہ کرنامحبت کے سفر میں چلتے چلتے تھک گیا ہوں میںUmar Farooq
- ہمیں تو ٹوٹی ہوئی کشتیاں نہیں دکھتیںہمارے گھر سے ہی دریا دکھائی دیتا ہےUmar Farooq
- جانے کس کس نے ہمیں تاکید کیکیوں نہیں دیکھی چمک خورشید کیUrmila Madhav
- خود سوال و جواب کرتے رہواپنے دل سے حساب کرتے رہوUrmila Madhav
- خود کے احساس محبت نے مجھے زندہ رکھامیرے کچھ نیک خیالات نے تابندہ رکھاUrmila Madhav
- ڈھونڈیئے اس شہر میں اب کس کو حاصل کون ہےاور ذرا بتلائیے کس کے مقابل کون ہےUrmila Madhav
- راہ جو چلنی ہے اس میں خوبیاں کوئی نہیںروح اپنی چھوڑ کے وقت گراں کوئی نہیںUrmila Madhav
- کس طرح بھولے ترے الفاظ بے جا کیا کروںوحشتیں یا حسرتیں جو بھی ہیں لے جا کیا کروںUrmila Madhav
- زندگی راضی نہیں تھی غم اٹھانے کے لئےہم چلے آئے یہاں تک مسکرانے کے لئےUrmila Madhav
- خدا را آ کے مری لو خبر کہاں ہو تممرے حبیب مرے چارہ گر کہاں ہو تمYaseen Zameer
- زنجیر زلف سیاہ سمندر نگاہ شوخجاؤں کہاں فرار کا رستہ کوئی تو ہوYaseen Zameer
- کچھ وقت اپنے ساتھ گزاروں گا میں ضمیرؔخود سے اگر ملا جو کبھی کوئے یار میںYaseen Zameer
- کس سے کروں میں اپنی تباہی کا اب گلہخود ہی کماں بہ دست ہوں خود ہی شکار میںYaseen Zameer
- مدت ہوئی ہے دست و گریباں ہوئے ہمیںامید نا امیدی خدا روزگار میںYaseen Zameer
- ممکن ہے اشک بن کے رہوں چشم یار میںممکن ہے بھول جائے غم روزگار میںYaseen Zameer
- ہر آنکھ اک سوال تہی دست کے لئےکب تک مروں گا میرے خدا بار بار میںYaseen Zameer
- پھر آگہی سے یقیں کی طرف قدم نکلےگمان و وہم کی جب سرحدوں سے ہم نکلےZafar Adeem
- چند مخصوص عناصر سے چمن بنتا ہےکتنی ترکیب سے پھولوں سا بدن بنتا ہےZafar Adeem
- قدموں کے نشاں سب ماند پڑے جو سنگ میل تھا ٹوٹ گیاکچھ منزل مجھ سے چھوٹ گئی کچھ منزل سے میں چھوٹ گیاZafar Adeem
- میں چار سو دکھائی دوں تو چار سو ملےیہ انتہائے عشق ہے یا ارتقائے حسنZafar Adeem
- وہ ایک لمحہ جو ترک تعلقات کا تھاپھر اس کے بعد کہاں کوئی پل حیات کا تھاZafar Adeem
- گھنیرا لہجہ وہ حسن کا تھاکھلی زباں وہ جمال کی تھیZafar Adeem
- میں تو شاعر ہوںبس ترے حسن کو احساس بنا رکھا ہےZafar Adeem
- پسند آئیں مجھ کو ادائیں تمہارییہی دل میں ہے لوں بلائیں تمہاریعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
- تمہارا عشق جب سے کیا ہوا اے نازنیں ہم کوپسند آتا نہیں ہے کوئی بھی اب مہ جبیں ہم کوعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
- جان دے دیں گے کرشموں پہ قضا سے پہلےمر ہی جائیں گے ترے ناز و ادا سے پہلےعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
- جگر تھامے ہوئے یاں طالب دیدار بیٹھے ہیںمزے واں لوٹنے کو بزم میں اغیار بیٹھے ہیںعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
- رنج و غم و فراق میں جو مبتلا نہیںدنیا میں اس کی زیست کا کچھ بھی مزا نہیںعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
- مجھ کو معلوم نہ تھا ان سے محبت ہوگیدرد پر درد مصیبت پہ مصیبت ہوگیعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی