Poetry

Poet
Meter
  1. ہے کھیل جاری ازل سے یہ اوج و پستی کاعروج جس کا کبھی تھا زوال ہے اس کاSabiha Khan
  2. یہی کاغذ یہی قلم ہوگاروز اک واقعہ رقم ہوگاSabiha Khan
  3. تمہاری تیغ نگاہ معجز نما نے بے موت جس کو ماراتو پاسبانی میں اس شہید وفا کی آکر اجل رہی ہےTabeeb Arvi
  4. رفتہ رفتہ دل پر اس کافر کا قبضہ ہو گیادیکھتے ہی دیکھتے کعبہ کلیسا ہو گیاTabeeb Arvi
  5. ضیائے حسن جاناں جاگزیں معلوم ہوتی ہےبیاض چشم دل عرش بریں معلوم ہوتی ہےTabeeb Arvi
  6. محفل یار میں اغیار رہا کرتے ہیںایک ہم ہیں کہ جدائی میں جلا کرتے ہیںTabeeb Arvi
  7. نہ ٹھہرا دل مرا غم کھانے والاگیا دنیا سے آخر جانے والاTabeeb Arvi
  8. نہ دم باقی ہے آنکھوں میں نہ دل میں جان باقی ہےمگر دونوں میں تیری دید کا ارمان باقی ہےTabeeb Arvi
  9. وحشی تیرا طرز جنوں میں سب سے رہا بیگانہ بھیقیس سے گو الفت بھی رہی فرہاد سے تھا یارانہ بھیTabeeb Arvi
  10. اپنے حصے کی زمیں بھی چاہیےدل مکاں کو اک مکیں بھی چاہیےTahira Jabeen
  11. جو بھی حق پر ہو وہی دار و رسن تک پہنچےآدمی آج کا یوں رسم کہن تک پہنچےTahira Jabeen
  12. جو سر پر ہے شجر میرا نہیں ہےمکیں ہوں اور گھر میرا نہیں ہےTahira Jabeen
  13. زندگی سے ہو مفر ممکن نہیںلاکھ چاہو تم مگر ممکن نہیںTahira Jabeen
  14. کبھی اثر نہ مرے حرف مدعا میں رہانہ اختیار کوئی دست نارسا میں رہاTahira Jabeen
  15. میں کیا مثال دوں کوئی تری مثال کے بعدنہیں جمال کوئی بھی ترے جمال کے بعدTahira Jabeen
  16. نغمۂ زیست گنگنائے کونآگہی کا عذاب اٹھائے کونTahira Jabeen
  17. چلو چراغ بجھا کر ذرا سا دیکھیں ہمیہ کائنات کسے ڈھونڈنے نکلتی ہےUmar Farooq
  18. اب کوئے صنم چار قدم ہی کا سفر ہےکچھ اور مسافت کو ٹھہر کیوں نہیں جاتےUmar Farooq
  19. اٹھے جو تیرے در سے تو دنیا سمٹ گئیبیٹھے تھے تیرے در پہ زمانہ لیے ہوئےUmar Farooq
  20. بدن کا بوجھ اٹھانا بھی اب محال ہواجو خود سے ہار کے بیٹھے تو پھر یہ حال ہواUmar Farooq
  21. مجھے خرید رہے ہیں مرے سبھی اپنےمیں بک تو جاؤں مگر سامنے تو آئے کوئیUmar Farooq
  22. مرے مالک مجھے اس خاک سے بے گھر نہ کرنامحبت کے سفر میں چلتے چلتے تھک گیا ہوں میںUmar Farooq
  23. ہمیں تو ٹوٹی ہوئی کشتیاں نہیں دکھتیںہمارے گھر سے ہی دریا دکھائی دیتا ہےUmar Farooq
  24. جانے کس کس نے ہمیں تاکید کیکیوں نہیں دیکھی چمک خورشید کیUrmila Madhav
  25. خود سوال و جواب کرتے رہواپنے دل سے حساب کرتے رہوUrmila Madhav
  26. خود کے احساس محبت نے مجھے زندہ رکھامیرے کچھ نیک خیالات نے تابندہ رکھاUrmila Madhav
  27. ڈھونڈیئے اس شہر میں اب کس کو حاصل کون ہےاور ذرا بتلائیے کس کے مقابل کون ہےUrmila Madhav
  28. راہ جو چلنی ہے اس میں خوبیاں کوئی نہیںروح اپنی چھوڑ کے وقت گراں کوئی نہیںUrmila Madhav
  29. کس طرح بھولے ترے الفاظ بے جا کیا کروںوحشتیں یا حسرتیں جو بھی ہیں لے جا کیا کروںUrmila Madhav
  30. زندگی راضی نہیں تھی غم اٹھانے کے لئےہم چلے آئے یہاں تک مسکرانے کے لئےUrmila Madhav
  31. خدا را آ کے مری لو خبر کہاں ہو تممرے حبیب مرے چارہ گر کہاں ہو تمYaseen Zameer
  32. زنجیر زلف سیاہ سمندر نگاہ شوخجاؤں کہاں فرار کا رستہ کوئی تو ہوYaseen Zameer
  33. کچھ وقت اپنے ساتھ گزاروں گا میں ضمیرؔخود سے اگر ملا جو کبھی کوئے یار میںYaseen Zameer
  34. کس سے کروں میں اپنی تباہی کا اب گلہخود ہی کماں بہ دست ہوں خود ہی شکار میںYaseen Zameer
  35. مدت ہوئی ہے دست و گریباں ہوئے ہمیںامید نا امیدی خدا روزگار میںYaseen Zameer
  36. ممکن ہے اشک بن کے رہوں چشم یار میںممکن ہے بھول جائے غم روزگار میںYaseen Zameer
  37. ہر آنکھ اک سوال تہی دست کے لئےکب تک مروں گا میرے خدا بار بار میںYaseen Zameer
  38. پھر آگہی سے یقیں کی طرف قدم نکلےگمان و وہم کی جب سرحدوں سے ہم نکلےZafar Adeem
  39. چند مخصوص عناصر سے چمن بنتا ہےکتنی ترکیب سے پھولوں سا بدن بنتا ہےZafar Adeem
  40. قدموں کے نشاں سب ماند پڑے جو سنگ میل تھا ٹوٹ گیاکچھ منزل مجھ سے چھوٹ گئی کچھ منزل سے میں چھوٹ گیاZafar Adeem
  41. میں چار سو دکھائی دوں تو چار سو ملےیہ انتہائے عشق ہے یا ارتقائے حسنZafar Adeem
  42. وہ ایک لمحہ جو ترک تعلقات کا تھاپھر اس کے بعد کہاں کوئی پل حیات کا تھاZafar Adeem
  43. گھنیرا لہجہ وہ حسن کا تھاکھلی زباں وہ جمال کی تھیZafar Adeem
  44. میں تو شاعر ہوںبس ترے حسن کو احساس بنا رکھا ہےZafar Adeem
  45. پسند آئیں مجھ کو ادائیں تمہارییہی دل میں ہے لوں بلائیں تمہاریعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
  46. تمہارا عشق جب سے کیا ہوا اے نازنیں ہم کوپسند آتا نہیں ہے کوئی بھی اب مہ جبیں ہم کوعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
  47. جان دے دیں گے کرشموں پہ قضا سے پہلےمر ہی جائیں گے ترے ناز و ادا سے پہلےعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
  48. جگر تھامے ہوئے یاں طالب دیدار بیٹھے ہیںمزے واں لوٹنے کو بزم میں اغیار بیٹھے ہیںعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
  49. رنج و غم و فراق میں جو مبتلا نہیںدنیا میں اس کی زیست کا کچھ بھی مزا نہیںعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی
  50. مجھ کو معلوم نہ تھا ان سے محبت ہوگیدرد پر درد مصیبت پہ مصیبت ہوگیعزیز الرحمٰن عزیز پانی پتی