بدل بدل کے وہ چولا مکان سے نکلا
Kafeel Anwarبدل بدل کے وہ چولا مکان سے نکلا
کسی کا تیر کسی کی کمان سے نکلا
حسین بستیاں ویران کرنے والا بھی
خوشی کو ڈھونڈھتا وہم و گمان سے نکلا
عجیب حادثہ اہل زمین پر گزرا
کہ قطرہ قطرہ لہو آسمان سے نکلا
وہ حرف حرف کتابوں کو چاٹنے والا
سفید کیڑا مری داستان سے نکلا
وہ ایک قصہ جو انورؔ کبھی سنا نہ سکا
وہ لفظ لفظ کسی کے بیان سے نکلا