احساس قربتوں کا دلاتے ہوئے تجھے

Kalicharan Singh

احساس قربتوں کا دلاتے ہوئے تجھے

ہم ڈوبنے لگے ہیں بچاتے ہوئے تجھے

چلتے رہے نگاہ میں لاتے ہوئے تجھے

آئے ہیں ہم کہاں پہ نبھاتے ہوئے تجھے

ہم کو ہمارے ضبط پے تھا ہی نہیں یقین

سو رو پڑے گلے سے لگاتے ہوئے تجھے

ہر بار کوئی چیز تو جاتا ہے توڑ کر

سو ڈر رہا ہوں خواب میں لاتے ہوئے تجھے

کوزہ گروں نے آج مجھے یہ دیا جواب

ہم تھک چکے ہیں دوست بناتے ہوئے تجھے

آ پاس میرے مل کے مناتے ہیں اس کا سوگ

ہارا ہوں میں بھی دوست ہراتے ہوئے تجھے