غنچے کا جواب ہو گیا ہے

عبدالعزیز فطرت

غنچے کا جواب ہو گیا ہے

دل کھل کے گلاب ہو گیا ہے

پا کر تب و تاب سوز غم سے

آنسو در ناب ہو گیا ہے

کیا فکر بہار و محفل یار

اب ختم وہ باب ہو گیا ہے

امید سکوں کا ذکر رعنا

سب خواب و سراب ہو گیا ہے

مرنا بھی نہیں ہے اپنے بس میں

جینا بھی عذاب ہو گیا ہے