ترے وجود کو بس آن بان میں رکھا

Kafeel Anwar

ترے وجود کو بس آن بان میں رکھا

کوئی بھی عکس نہ سونے مکان میں رکھا

بس ایک وہم سا سایہ فگن رہا برسوں

جو پھول سوکھ گیا خاکدان میں رکھا

مری انا کے اگر روبرو نہیں کوئی

تو ذکر کس کا یہ اپنے بیان میں رکھا

سناتا کیسے میں قصہ یہ بے حسی کا یہاں

کہ خود کو اس نے مگر درمیان میں رکھا

مسافران عدم کا پڑاؤ کیا انورؔ

کہ اس نے خود ہی انہیں سائبان میں رکھا